🚚 Free Worldwide Shipping on All Orders!Shop Now
HomeStore

ZILLATON KAY MAARAY LOG |ذلتوں کے مارے لوگ

Product image 1

ZILLATON KAY MAARAY LOG |ذلتوں کے مارے لوگ

ZILLATON KAY MAARAY LOG |ذلتوں کے مارے لوگ

Author:  FYODOR DOSTOEVSKY
Binding: Hardback
Category: Fiction Urdu-books
Pages; 415
Publisher: Books corner
ISBN: 978-969-662-612-1
About the book:
فیودور دستوئیفسکی کا ناول ’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ ان کے جلاوطنی سے واپسی کے بعد تحریر کردہ اہم ادبی شاہکاروں میں پہلا بڑا کام ہے۔ یہ ناول پہلی بار 1861 میں رسالہ ’’وَریمیہ‘‘ میں ’’ذلتوں کے مارے لوگ: ایک ناکام ادیب کی ڈائری سے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جس کی ادارت خود دستوئیفسکی اور ان کے بھائی میخائل کر رہے تھے۔ رسالے کے مواد کو مکمل کرنے کے لیے انہیں ایک طویل ناول لکھنا پڑا جسے قسط وار منظر عام پر لایا جائے۔ ناول کی تخلیق کا تصور دستوئیفسکی کو 1857 میں آیا اور وہ 1860 میں سینٹ پیٹرزبرگ منتقل ہونے کے بعد اس پر کام شروع کر دیا، جس کی آخری قسط جولائی 1861 میں شائع ہوئی۔ اسی سال یہ ناول سینٹ پیٹرزبرگ سے الگ کتاب کی صورت میں بھی منظر عام پر آیا۔ ناول میں مصنف، اپنے کردار ایوان پیٹرووچ کے ذریعے، اپنے پہلے کامیاب ناول ’’بے چارے لوگ‘‘ کی بھی یاد دلاتے ہیں، جو 1846 میں شائع ہوا تھا۔ ’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ معاشرے کے کنارے کھڑے بے بس اور مظلوم افراد کی کہانی بیان کرتا ہے، جو اگرچہ حالات کے دائرے میں محدود ہیں مگر انسانی عظمت کے جذبات اور خوابوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ناول صرف انسانی دکھ درد کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ محبت، قربانی اور سماجی انصاف کے جذبے کو بھی الفاظ کی شکل دیتا ہے۔ دستوئیفسکی کی ذاتی زندگی، ان کے ادبی سفر اور اُن کے اندر پنہاں گہرے نفسیاتی اور روحانی پہلو بھی اس کتاب کے پس منظر کا حصہ ہیں۔ ایک غریب طبیب کے گھرانے میں پیدا ہونے والے دستوئیفسکی کو بچپن ہی سے غربت اور مصیبت کا سامنا تھا۔ ان کی تربیت، فوج میں ملازمت اور جلاوطنی، قیدی زندگی اور مرگی کے مرض نے ان کے ادبی کمالات میں گہری نفسیاتی بصیرت پیدا کی۔ ان کا ادبی سفر ان کی زندگی کے تجربات اور جذبات سے جُڑا ہوا ہے، جو ان کے ناولوں کے کرداروں اور موضوعات میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ اور ’’کرامازوف برادران‘‘ جیسے شاہکار ان کی عظیم تخلیقی قابلیت کا ثبوت ہیں، جنہیں دنیا بھر کی زبانوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ اردو میں اس پیچیدہ و گنجلک ادب کو منتقل کرنے کا فریضہ ظ انصاری نے انجام دیا، جو خود ایک ماہر ادیب، مترجم اور محقق تھے۔ ان کی مہارت، محنت اور زبانوں کی گہری سمجھ نے دستوئیفسکی کے ناولوں کو اردو میں اس خوبصورتی اور روانی کے ساتھ پیش کیا کہ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتابیں اصل میں اردو میں لکھی گئی ہیں۔ ظ انصاری روسی زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی، فارسی اور اردو زبان میں بھی دسترس رکھتے تھے اور انہوں نے کثیر تعداد میں روسی ادبی و فکری کتب کا اردو میں ترجمہ کیا۔ ان کی خدمات کی بدولت اردو ادب میں شاہکار روسی ادب کی جھلک نمایاں ہوئی اور قارئین کو عالمی ادب سے جڑنے کا ایک قیمتی موقع ملا۔ ان کی تحقیق اور ترجمانی نے اردو زبان کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ ناول پڑھنا نہ صرف ادبی تجربہ ہے بلکہ انسانی جذبوں کے مختلف پہلوؤں سے روشناس ہونے کا ذریعہ بھی ہے۔ محمد حسن عسکری کے الفاظ میں، جو لوگ اپنے اندر کے جہنم کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کے ادب کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتے۔ ’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ ایسے افراد کی داستان ہے جو بظاہر کمزور دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے دل میں عظمت کی خواہشیں زندہ ہیں، یہ ناول انسانی کمزوریوں اور طاقتوں کے درمیان نفسیاتی تضادات کو بہترین انداز میں پیش کرتا ہے۔ دستوئیفسکی کے ادبی کمالات اور ظ انصاری کے تراجم کے امتزاج نے اردو قارئین کے لیے یہ شاہکار ایک قابلِ قدر اور علمی حیثیت کا حامل بنا دیا ہے۔
$4.03
ZILLATON KAY MAARAY LOG |ذلتوں کے مارے لوگ
$4.03

Product Information

Shipping & Returns

Description

Author:  FYODOR DOSTOEVSKY
Binding: Hardback
Category: Fiction Urdu-books
Pages; 415
Publisher: Books corner
ISBN: 978-969-662-612-1
About the book:
فیودور دستوئیفسکی کا ناول ’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ ان کے جلاوطنی سے واپسی کے بعد تحریر کردہ اہم ادبی شاہکاروں میں پہلا بڑا کام ہے۔ یہ ناول پہلی بار 1861 میں رسالہ ’’وَریمیہ‘‘ میں ’’ذلتوں کے مارے لوگ: ایک ناکام ادیب کی ڈائری سے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جس کی ادارت خود دستوئیفسکی اور ان کے بھائی میخائل کر رہے تھے۔ رسالے کے مواد کو مکمل کرنے کے لیے انہیں ایک طویل ناول لکھنا پڑا جسے قسط وار منظر عام پر لایا جائے۔ ناول کی تخلیق کا تصور دستوئیفسکی کو 1857 میں آیا اور وہ 1860 میں سینٹ پیٹرزبرگ منتقل ہونے کے بعد اس پر کام شروع کر دیا، جس کی آخری قسط جولائی 1861 میں شائع ہوئی۔ اسی سال یہ ناول سینٹ پیٹرزبرگ سے الگ کتاب کی صورت میں بھی منظر عام پر آیا۔ ناول میں مصنف، اپنے کردار ایوان پیٹرووچ کے ذریعے، اپنے پہلے کامیاب ناول ’’بے چارے لوگ‘‘ کی بھی یاد دلاتے ہیں، جو 1846 میں شائع ہوا تھا۔ ’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ معاشرے کے کنارے کھڑے بے بس اور مظلوم افراد کی کہانی بیان کرتا ہے، جو اگرچہ حالات کے دائرے میں محدود ہیں مگر انسانی عظمت کے جذبات اور خوابوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ناول صرف انسانی دکھ درد کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ محبت، قربانی اور سماجی انصاف کے جذبے کو بھی الفاظ کی شکل دیتا ہے۔ دستوئیفسکی کی ذاتی زندگی، ان کے ادبی سفر اور اُن کے اندر پنہاں گہرے نفسیاتی اور روحانی پہلو بھی اس کتاب کے پس منظر کا حصہ ہیں۔ ایک غریب طبیب کے گھرانے میں پیدا ہونے والے دستوئیفسکی کو بچپن ہی سے غربت اور مصیبت کا سامنا تھا۔ ان کی تربیت، فوج میں ملازمت اور جلاوطنی، قیدی زندگی اور مرگی کے مرض نے ان کے ادبی کمالات میں گہری نفسیاتی بصیرت پیدا کی۔ ان کا ادبی سفر ان کی زندگی کے تجربات اور جذبات سے جُڑا ہوا ہے، جو ان کے ناولوں کے کرداروں اور موضوعات میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ اور ’’کرامازوف برادران‘‘ جیسے شاہکار ان کی عظیم تخلیقی قابلیت کا ثبوت ہیں، جنہیں دنیا بھر کی زبانوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ اردو میں اس پیچیدہ و گنجلک ادب کو منتقل کرنے کا فریضہ ظ انصاری نے انجام دیا، جو خود ایک ماہر ادیب، مترجم اور محقق تھے۔ ان کی مہارت، محنت اور زبانوں کی گہری سمجھ نے دستوئیفسکی کے ناولوں کو اردو میں اس خوبصورتی اور روانی کے ساتھ پیش کیا کہ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتابیں اصل میں اردو میں لکھی گئی ہیں۔ ظ انصاری روسی زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی، فارسی اور اردو زبان میں بھی دسترس رکھتے تھے اور انہوں نے کثیر تعداد میں روسی ادبی و فکری کتب کا اردو میں ترجمہ کیا۔ ان کی خدمات کی بدولت اردو ادب میں شاہکار روسی ادب کی جھلک نمایاں ہوئی اور قارئین کو عالمی ادب سے جڑنے کا ایک قیمتی موقع ملا۔ ان کی تحقیق اور ترجمانی نے اردو زبان کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ ناول پڑھنا نہ صرف ادبی تجربہ ہے بلکہ انسانی جذبوں کے مختلف پہلوؤں سے روشناس ہونے کا ذریعہ بھی ہے۔ محمد حسن عسکری کے الفاظ میں، جو لوگ اپنے اندر کے جہنم کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کے ادب کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتے۔ ’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ ایسے افراد کی داستان ہے جو بظاہر کمزور دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے دل میں عظمت کی خواہشیں زندہ ہیں، یہ ناول انسانی کمزوریوں اور طاقتوں کے درمیان نفسیاتی تضادات کو بہترین انداز میں پیش کرتا ہے۔ دستوئیفسکی کے ادبی کمالات اور ظ انصاری کے تراجم کے امتزاج نے اردو قارئین کے لیے یہ شاہکار ایک قابلِ قدر اور علمی حیثیت کا حامل بنا دیا ہے۔