🚚 Free Worldwide Shipping on All Orders!Shop Now
HomeStore

TAHREER MUNSHI PREMCHAND KI | تحریر منشی پریم چند کی

Product image 1

TAHREER MUNSHI PREMCHAND KI | تحریر منشی پریم چند کی

TAHREER MUNSHI PREMCHAND KI | تحریر منشی پریم چند کی

(NOTE: The Book cover may vary if published by different companies.)

Author: GULZAR

Categories:  Short Stories

Pages: 

Publisher: Books corner

Cover: Hardback

Book description :زمانوں کا مؤرخ، منظر ناموں کا مصوّر، اَدوار کا شاہد، ہر عہد کے فن کاروں کا یار گلزار۔ فن کی دوستی کی یہ محفل گلزار نے اب پریم چند کے اعزاز میں سجائی ہے۔ ’’منشی دھنپت رائے‘‘ ’’پریم چند‘‘ ہوئے تو ’’سمپورن سنگھ‘‘ ’’گلزار‘‘ کہ دونوں اپنی اپنی مٹی کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ مٹی جو پریم میں گندھتی ہے تو گلزار ہوتی ہے۔
تخلیق کا منتر کُن ہے۔ کُن کو کسی ماڈل یا تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نقشِ اول بن جاتا ہے، بنایا نہیں جاتا۔ جیسے پریم چند کے ہاتھوں افسانہ اپنی بہترین شکل میں بن گیا۔ پھر اس کے بعد اطراف و جوانب کا پھیلاؤ باقی رہا۔ گلزار نے انہی اطراف و جوانب کی شش جہات کو مٹھی میں لے کر پریم چند کے لازوال فن کو اس دورِ نارسا کی تاریک رات میں جگنو سا چمکا دیا ہے۔
میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ پریم چند کو پھر سے متعارف کروانے کی ضرورت تھی لیکن غالب کی جہات کو جس طرح حالی نے متعارف کروایا، وہی تعارف غالب کی عظمت کو سامنے لایا۔ ذوق کو محمد حسین آزاد نے جو شناخت دی وہ منفرد تھی۔ گلزار وہ کیمیا گر ہیں کہ جسے چھو لیں وہی زرناب ہو جائے۔
پریم چند کا فن، اُس پر گلزار کا ابتدائیہ، اس پر بک کارنر جہلم کی آرٹسٹک اشاعت۔ مجھے یقین ہے کہ پریم چند نئے رنگ و روپ میں ہی نہیں، نئے مفاہیم اور نئے سروکار کے ہمراہ خود کی باز خوانی کروائیں گے۔

(طاہرہ اقبال

$2.02

Original: $6.72

-70%
TAHREER MUNSHI PREMCHAND KI | تحریر منشی پریم چند کی

$6.72

$2.02

Product Information

Shipping & Returns

Description

(NOTE: The Book cover may vary if published by different companies.)

Author: GULZAR

Categories:  Short Stories

Pages: 

Publisher: Books corner

Cover: Hardback

Book description :زمانوں کا مؤرخ، منظر ناموں کا مصوّر، اَدوار کا شاہد، ہر عہد کے فن کاروں کا یار گلزار۔ فن کی دوستی کی یہ محفل گلزار نے اب پریم چند کے اعزاز میں سجائی ہے۔ ’’منشی دھنپت رائے‘‘ ’’پریم چند‘‘ ہوئے تو ’’سمپورن سنگھ‘‘ ’’گلزار‘‘ کہ دونوں اپنی اپنی مٹی کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ مٹی جو پریم میں گندھتی ہے تو گلزار ہوتی ہے۔
تخلیق کا منتر کُن ہے۔ کُن کو کسی ماڈل یا تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نقشِ اول بن جاتا ہے، بنایا نہیں جاتا۔ جیسے پریم چند کے ہاتھوں افسانہ اپنی بہترین شکل میں بن گیا۔ پھر اس کے بعد اطراف و جوانب کا پھیلاؤ باقی رہا۔ گلزار نے انہی اطراف و جوانب کی شش جہات کو مٹھی میں لے کر پریم چند کے لازوال فن کو اس دورِ نارسا کی تاریک رات میں جگنو سا چمکا دیا ہے۔
میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ پریم چند کو پھر سے متعارف کروانے کی ضرورت تھی لیکن غالب کی جہات کو جس طرح حالی نے متعارف کروایا، وہی تعارف غالب کی عظمت کو سامنے لایا۔ ذوق کو محمد حسین آزاد نے جو شناخت دی وہ منفرد تھی۔ گلزار وہ کیمیا گر ہیں کہ جسے چھو لیں وہی زرناب ہو جائے۔
پریم چند کا فن، اُس پر گلزار کا ابتدائیہ، اس پر بک کارنر جہلم کی آرٹسٹک اشاعت۔ مجھے یقین ہے کہ پریم چند نئے رنگ و روپ میں ہی نہیں، نئے مفاہیم اور نئے سروکار کے ہمراہ خود کی باز خوانی کروائیں گے۔

(طاہرہ اقبال

TAHREER MUNSHI PREMCHAND KI | تحریر منشی پریم چند کی | Books Villa