🚚 Free Worldwide Shipping on All Orders!Shop Now
HomeStore

SAFARNAMA IBN E BATTUTA | سفرنامہ ابن بطوطہ

Product image 1

SAFARNAMA IBN E BATTUTA | سفرنامہ ابن بطوطہ

SAFARNAMA IBN E BATTUTA | سفرنامہ ابن بطوطہ

Author: IBN E BATTUTA 

Categories:  History Memories Classic

Pages: 760

Publisher: Book Corner

Cover: Haedcover

Book description :ہ سفر نامہ، ابن بطوطہ نے اپنی مادری زبان یعنی عربی میں تحریر کیا۔ اس کی عربی، صحیح معنوں میں ’’عربی مبین‘‘ جیسی ہے۔ اتنی رواں، اتنی سادہ، اتنی شگفتہ کہ بس... ’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘
دورانِ سفر وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا، 25 سال کے بعد وطن پہنچا اور پھر گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر ان یادداشتوں کی مدد سے سفر نامہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ کہیں کہیں بھول چوک یا غلط فہمی یا التباس تقاضائے بشری ہے لیکن اس کے حافظے کی داد دینی چاہیے کہ اس نے جو کچھ لکھا، بڑی کوتاہیوں سے پاک ہے۔
وہ بادشاہوں سے بھی ملا اور وزیروں سے بھی، ابنِ خلیفۃ المسلمین سے بھی اور امرائے عرب و عجم سے بھی، اہلِ علم سے بھی اور اصحابِ سیف سے بھی، سب کے بارے میں اُس نے اظہارِ رائے کیا، بڑے بے لاگ انداز میں... جو دِل میں وہ زبان پر!
اور خود اپنے کو بھی نہیں چھوڑا ہے... حد یہ ہے کہ حیاتِ عیش و نشاط کی داستانِ شبینہ بیان کرنے میں بھی اس نے کوئی تکلّف نہیں کیا ہے۔
دنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان ایسی نہیں جس میں اس کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو... مشرق اور ایشیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس منچلے سیّاح کے قدم نہ پہنچے ہوں!
سر زمینِ مغرب کے بعض مقامات کی بھی ابن بطوطہ نے سیاحت کی... اور پھر اپنے تاثرات و مشاہداتِ سفر، پوری سچائی، بے باکی اور جراَت کے ساتھ قلم بند کر دیے۔

$2.90

Original: $9.68

-70%
SAFARNAMA IBN E BATTUTA | سفرنامہ ابن بطوطہ

$9.68

$2.90

Product Information

Shipping & Returns

Description

Author: IBN E BATTUTA 

Categories:  History Memories Classic

Pages: 760

Publisher: Book Corner

Cover: Haedcover

Book description :ہ سفر نامہ، ابن بطوطہ نے اپنی مادری زبان یعنی عربی میں تحریر کیا۔ اس کی عربی، صحیح معنوں میں ’’عربی مبین‘‘ جیسی ہے۔ اتنی رواں، اتنی سادہ، اتنی شگفتہ کہ بس... ’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘
دورانِ سفر وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا، 25 سال کے بعد وطن پہنچا اور پھر گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر ان یادداشتوں کی مدد سے سفر نامہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ کہیں کہیں بھول چوک یا غلط فہمی یا التباس تقاضائے بشری ہے لیکن اس کے حافظے کی داد دینی چاہیے کہ اس نے جو کچھ لکھا، بڑی کوتاہیوں سے پاک ہے۔
وہ بادشاہوں سے بھی ملا اور وزیروں سے بھی، ابنِ خلیفۃ المسلمین سے بھی اور امرائے عرب و عجم سے بھی، اہلِ علم سے بھی اور اصحابِ سیف سے بھی، سب کے بارے میں اُس نے اظہارِ رائے کیا، بڑے بے لاگ انداز میں... جو دِل میں وہ زبان پر!
اور خود اپنے کو بھی نہیں چھوڑا ہے... حد یہ ہے کہ حیاتِ عیش و نشاط کی داستانِ شبینہ بیان کرنے میں بھی اس نے کوئی تکلّف نہیں کیا ہے۔
دنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان ایسی نہیں جس میں اس کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو... مشرق اور ایشیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس منچلے سیّاح کے قدم نہ پہنچے ہوں!
سر زمینِ مغرب کے بعض مقامات کی بھی ابن بطوطہ نے سیاحت کی... اور پھر اپنے تاثرات و مشاہداتِ سفر، پوری سچائی، بے باکی اور جراَت کے ساتھ قلم بند کر دیے۔