🚚 Free Worldwide Shipping on All Orders!Shop Now
HomeStore

SAFARNAMA-E-HAJJ | سفرنامۂ حج

SAFARNAMA-E-HAJJ | سفرنامۂ حج

SAFARNAMA-E-HAJJ | سفرنامۂ حج

Author: NAWAB SIKANDAR BEGUM
Editor: ZAIF SYED
Binding: Hardback
Pages: 238
Categories: HISTORY
Book Description:
نواب سکندر بیگم بھوپال کا یہ نایاب حج نامہ، جو 1867ء میں تحریر کیا گیا تھا اور طویل عرصے تک بھولا اور نظر انداز رہا، اب 158 سال بعد اردو زبان میں پہلی بار شائع ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک روحانی سفر کی تفصیل نہیں بلکہ ایک دانشور اور دور اندیش ملکہ کی انیسویں صدی کے عرب معاشرے، اس کی سیاست، اور ثقافت پر گہری نظر ہے۔ اس سفرنامے میں انیسویں صدی کے حجاز کے حکومتی نظام، حاجیوں کے ساتھ ہونے والا سلوک، مکہ و جدہ کے لوگوں کی عادات، رسوم، لباس اور طرز زندگی کی مفصل اور شفاف تفصیل موجود ہے، جو اس زمانے کی روزمرہ زندگی کا قیمتی دستاویزی ریکارڈ فراہم کرتی ہے۔ یہ کتاب دو اہم تاریخی خصوصیات کی حامل ہے: یہ اردو زبان میں تحریر کردہ پہلا حج نامہ ہے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کی کسی خاتون حکمران کی لکھی ہوئی پہلی کتاب بھی ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک تاریخی دستاویز کے ساتھ ساتھ ایک نسوانی نقطہ نظر اور بین الثقافتی تجزیے کا بھی نادر امتزاج ہے، جو اپنے زمانے سے بہت آگے کی فکری روشنی پیش کرتی ہے۔ نواب سکندر بیگم (1818-1868ء) برصغیر کی چند نمایاں حکمران خواتین میں شمار کی جاتی ہیں۔ ان کی سیاسی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور مضبوط شخصیت نے انہیں اپنے دور میں بھوپال کی تاریخ میں ایک سنہری مقام دلایا۔ انہوں نے روایات کو توڑتے ہوئے پردے کا خاتمہ کیا اور عملی سیاست و انتظامیہ میں براہ راست حصہ لیا۔ ان کی مہارتوں کو انگریز حکمران بھی تسلیم کرتے تھے اور انہیں نائٹ کے خطاب سے نوازا گیا، جو ملکہ وکٹوریہ کے بعد برطانیہ میں دوسری خاتون نائٹ تھیں۔ 1864ء میں ان کا حج کا سفر ایک منفرد تاریخی واقعہ تھا کیونکہ اس سے پہلے ہندوستان کے کسی حکمران نے حج نہیں کیا تھا۔ اپنے وطن واپسی پر انہوں نے اس دلچسپ اور مفصل سفر کی داستان لکھی، جسے اردو کا پہلا حج نامہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس دستاویز میں ان کی بصیرت، حکمرانی کے انداز اور گہرے مشاہدات کا اظہار ملتا ہے۔ نواب سکندر بیگم ایک اصلاح پسند اور اپنے زمانے سے کئی دہائیاں آگے سوچ رکھنے والی حکمران تھیں اور انہیں برصغیر کی خواتین کے لیے ایک مثالی رول ماڈل مانا جاتا ہے۔ ان کی زندگی اور کام نے خواتین کی سیاست میں شرکت اور سماجی اصلاحات کے سلسلے میں راہ ہموار کی۔ کتاب کے مصنف زیف سید ایک معروف ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد اور مترجم ہیں جو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ ان کے افسانے، ناول اور تراجم پاکستان اور بھارت کے متعدد ادبی رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا اردو ناول ’’گل مینہ‘‘ مغربی سرحد کے عوام، خاص طور پر خواتین، کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ ’’The Dark Side of Paradise‘‘ زیر اشاعت ہے۔ زیف سید نے خورخے لوئیس بورخیس کے افسانوں اور نظموں کے اردو تراجم بھی کیے ہیں جو دونوں ممالک میں شائع ہو چکے ہیں۔ اپنے وسیع تجربے کی بدولت زیف سید مختلف موضوعات مثلاً تاریخ، ادب، ثقافت، سائنس، ارتقا، شعور، مصنوعی ذہانت اور کائنات کے راز پر بھی عالمی میڈیا کے لیے مضامین لکھتے ہیں۔ وہ اس وقت انڈپینڈنٹ اردو کے مدیر ہیں اور انہوں نے بی بی سی، وائس آف امریکہ اور امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ یہ مجموعہ تاریخی حقائق کے ساتھ ساتھ ادبی اور فکری گہرائی کا حامل ہے، جو نہ صرف انیسویں صدی کے عرب ماحول کا معروضی جائزہ پیش کرتا ہے بلکہ اُس دور کی نسوانی آواز اور بین الثقافتی تفہیم کو بھی زندہ کرتا ہے۔ یہ کتاب مطالعہ، تحقیق اور ثقافتی شعور کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔

 

$4.03
SAFARNAMA-E-HAJJ | سفرنامۂ حج
$4.03

Product Information

Shipping & Returns

Description

Author: NAWAB SIKANDAR BEGUM
Editor: ZAIF SYED
Binding: Hardback
Pages: 238
Categories: HISTORY
Book Description:
نواب سکندر بیگم بھوپال کا یہ نایاب حج نامہ، جو 1867ء میں تحریر کیا گیا تھا اور طویل عرصے تک بھولا اور نظر انداز رہا، اب 158 سال بعد اردو زبان میں پہلی بار شائع ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک روحانی سفر کی تفصیل نہیں بلکہ ایک دانشور اور دور اندیش ملکہ کی انیسویں صدی کے عرب معاشرے، اس کی سیاست، اور ثقافت پر گہری نظر ہے۔ اس سفرنامے میں انیسویں صدی کے حجاز کے حکومتی نظام، حاجیوں کے ساتھ ہونے والا سلوک، مکہ و جدہ کے لوگوں کی عادات، رسوم، لباس اور طرز زندگی کی مفصل اور شفاف تفصیل موجود ہے، جو اس زمانے کی روزمرہ زندگی کا قیمتی دستاویزی ریکارڈ فراہم کرتی ہے۔ یہ کتاب دو اہم تاریخی خصوصیات کی حامل ہے: یہ اردو زبان میں تحریر کردہ پہلا حج نامہ ہے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کی کسی خاتون حکمران کی لکھی ہوئی پہلی کتاب بھی ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک تاریخی دستاویز کے ساتھ ساتھ ایک نسوانی نقطہ نظر اور بین الثقافتی تجزیے کا بھی نادر امتزاج ہے، جو اپنے زمانے سے بہت آگے کی فکری روشنی پیش کرتی ہے۔ نواب سکندر بیگم (1818-1868ء) برصغیر کی چند نمایاں حکمران خواتین میں شمار کی جاتی ہیں۔ ان کی سیاسی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور مضبوط شخصیت نے انہیں اپنے دور میں بھوپال کی تاریخ میں ایک سنہری مقام دلایا۔ انہوں نے روایات کو توڑتے ہوئے پردے کا خاتمہ کیا اور عملی سیاست و انتظامیہ میں براہ راست حصہ لیا۔ ان کی مہارتوں کو انگریز حکمران بھی تسلیم کرتے تھے اور انہیں نائٹ کے خطاب سے نوازا گیا، جو ملکہ وکٹوریہ کے بعد برطانیہ میں دوسری خاتون نائٹ تھیں۔ 1864ء میں ان کا حج کا سفر ایک منفرد تاریخی واقعہ تھا کیونکہ اس سے پہلے ہندوستان کے کسی حکمران نے حج نہیں کیا تھا۔ اپنے وطن واپسی پر انہوں نے اس دلچسپ اور مفصل سفر کی داستان لکھی، جسے اردو کا پہلا حج نامہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس دستاویز میں ان کی بصیرت، حکمرانی کے انداز اور گہرے مشاہدات کا اظہار ملتا ہے۔ نواب سکندر بیگم ایک اصلاح پسند اور اپنے زمانے سے کئی دہائیاں آگے سوچ رکھنے والی حکمران تھیں اور انہیں برصغیر کی خواتین کے لیے ایک مثالی رول ماڈل مانا جاتا ہے۔ ان کی زندگی اور کام نے خواتین کی سیاست میں شرکت اور سماجی اصلاحات کے سلسلے میں راہ ہموار کی۔ کتاب کے مصنف زیف سید ایک معروف ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد اور مترجم ہیں جو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ ان کے افسانے، ناول اور تراجم پاکستان اور بھارت کے متعدد ادبی رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا اردو ناول ’’گل مینہ‘‘ مغربی سرحد کے عوام، خاص طور پر خواتین، کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ ’’The Dark Side of Paradise‘‘ زیر اشاعت ہے۔ زیف سید نے خورخے لوئیس بورخیس کے افسانوں اور نظموں کے اردو تراجم بھی کیے ہیں جو دونوں ممالک میں شائع ہو چکے ہیں۔ اپنے وسیع تجربے کی بدولت زیف سید مختلف موضوعات مثلاً تاریخ، ادب، ثقافت، سائنس، ارتقا، شعور، مصنوعی ذہانت اور کائنات کے راز پر بھی عالمی میڈیا کے لیے مضامین لکھتے ہیں۔ وہ اس وقت انڈپینڈنٹ اردو کے مدیر ہیں اور انہوں نے بی بی سی، وائس آف امریکہ اور امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ یہ مجموعہ تاریخی حقائق کے ساتھ ساتھ ادبی اور فکری گہرائی کا حامل ہے، جو نہ صرف انیسویں صدی کے عرب ماحول کا معروضی جائزہ پیش کرتا ہے بلکہ اُس دور کی نسوانی آواز اور بین الثقافتی تفہیم کو بھی زندہ کرتا ہے۔ یہ کتاب مطالعہ، تحقیق اور ثقافتی شعور کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔

 

SAFARNAMA-E-HAJJ | سفرنامۂ حج | Books Villa