NISF SADI KE ZAKHM | نصف صدی کے زخم
(NOTE: The Book cover may vary if published by different companies.)
Author: RAJA ANWAR
Categories: Urdu books
Pages:238
Publisher: Books corner
Cover: Hardback
Book description :’’نصف صدی کے زخم‘‘ زمانۂ طالبِ علمی کی سیاسی سرگزشت ہے۔ پروفیسر خواجہ مسعود اور ان کے ہم نوا اساتذہ کرام کے فیضانِ تربیت سے گورڈن کالج اُس زمانے کی سب سے بڑی ترقی پسند درس گاہ تھی۔ راجہ انور طلبا سیاست سے ہوتے ہوئے قومی سیاست کے میدان میں آ نکلے۔ پیپلز پارٹی کی عوامی سیاست کو اپنایا۔ بھٹو شہید کے دورِ اقتدار کی راہداریوں کی سیر کی۔ ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں قید و بند اور جلاوطنی کے عذاب سہے اور ثواب کمائے۔ ثواب یوں کہ اپنے وطن کی کال کوٹھری میں پابندِ سلاسل زندگی کی اذیتیں برداشت کرتے رہنے کی بجائے دیارِ غیر میں سیر و سیاحت کے تجربات و مشاہدات دل و دنیا کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوتے ہیں۔ راجہ انور کے لیے جبری جلاوطنی ایک عطیۂ خداوندی ثابت ہوئی۔ پاکستان کے نادان حکمرانوں نے اسے سزا سمجھا تھا مگر وہ عطا تھی۔ اس دوران دیارِغیر میں بھی ان کی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رہی۔ مشاہدات و تجربات کو عالمی سطح کی وسعتِ نظری اور نئے تناظر میسر ہوئے۔ جی چاہتا ہے کہ ہم اس عطائے ربانی کی کہانی راجہ محمد انور کی زبانی بھی سنیں جو اس تحریک کے اہم ترین کردار تھے۔ ان کی تازہ تصنیف کی اشاعت پر میں تہ دل سے انھیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ (پروفیسر فتح محمد ملک)
Product Information
Product Information
Shipping & Returns
Shipping & Returns

NISF SADI KE ZAKHM | نصف صدی کے زخم
NISF SADI KE ZAKHM | نصف صدی کے زخم
(NOTE: The Book cover may vary if published by different companies.)
Author: RAJA ANWAR
Categories: Urdu books
Pages:238
Publisher: Books corner
Cover: Hardback
Book description :’’نصف صدی کے زخم‘‘ زمانۂ طالبِ علمی کی سیاسی سرگزشت ہے۔ پروفیسر خواجہ مسعود اور ان کے ہم نوا اساتذہ کرام کے فیضانِ تربیت سے گورڈن کالج اُس زمانے کی سب سے بڑی ترقی پسند درس گاہ تھی۔ راجہ انور طلبا سیاست سے ہوتے ہوئے قومی سیاست کے میدان میں آ نکلے۔ پیپلز پارٹی کی عوامی سیاست کو اپنایا۔ بھٹو شہید کے دورِ اقتدار کی راہداریوں کی سیر کی۔ ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں قید و بند اور جلاوطنی کے عذاب سہے اور ثواب کمائے۔ ثواب یوں کہ اپنے وطن کی کال کوٹھری میں پابندِ سلاسل زندگی کی اذیتیں برداشت کرتے رہنے کی بجائے دیارِ غیر میں سیر و سیاحت کے تجربات و مشاہدات دل و دنیا کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوتے ہیں۔ راجہ انور کے لیے جبری جلاوطنی ایک عطیۂ خداوندی ثابت ہوئی۔ پاکستان کے نادان حکمرانوں نے اسے سزا سمجھا تھا مگر وہ عطا تھی۔ اس دوران دیارِغیر میں بھی ان کی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رہی۔ مشاہدات و تجربات کو عالمی سطح کی وسعتِ نظری اور نئے تناظر میسر ہوئے۔ جی چاہتا ہے کہ ہم اس عطائے ربانی کی کہانی راجہ محمد انور کی زبانی بھی سنیں جو اس تحریک کے اہم ترین کردار تھے۔ ان کی تازہ تصنیف کی اشاعت پر میں تہ دل سے انھیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ (پروفیسر فتح محمد ملک)
Original: $3.23
-70%$3.23
$0.97Product Information
Product Information
Shipping & Returns
Shipping & Returns
Description
(NOTE: The Book cover may vary if published by different companies.)
Author: RAJA ANWAR
Categories: Urdu books
Pages:238
Publisher: Books corner
Cover: Hardback
Book description :’’نصف صدی کے زخم‘‘ زمانۂ طالبِ علمی کی سیاسی سرگزشت ہے۔ پروفیسر خواجہ مسعود اور ان کے ہم نوا اساتذہ کرام کے فیضانِ تربیت سے گورڈن کالج اُس زمانے کی سب سے بڑی ترقی پسند درس گاہ تھی۔ راجہ انور طلبا سیاست سے ہوتے ہوئے قومی سیاست کے میدان میں آ نکلے۔ پیپلز پارٹی کی عوامی سیاست کو اپنایا۔ بھٹو شہید کے دورِ اقتدار کی راہداریوں کی سیر کی۔ ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں قید و بند اور جلاوطنی کے عذاب سہے اور ثواب کمائے۔ ثواب یوں کہ اپنے وطن کی کال کوٹھری میں پابندِ سلاسل زندگی کی اذیتیں برداشت کرتے رہنے کی بجائے دیارِ غیر میں سیر و سیاحت کے تجربات و مشاہدات دل و دنیا کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوتے ہیں۔ راجہ انور کے لیے جبری جلاوطنی ایک عطیۂ خداوندی ثابت ہوئی۔ پاکستان کے نادان حکمرانوں نے اسے سزا سمجھا تھا مگر وہ عطا تھی۔ اس دوران دیارِغیر میں بھی ان کی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رہی۔ مشاہدات و تجربات کو عالمی سطح کی وسعتِ نظری اور نئے تناظر میسر ہوئے۔ جی چاہتا ہے کہ ہم اس عطائے ربانی کی کہانی راجہ محمد انور کی زبانی بھی سنیں جو اس تحریک کے اہم ترین کردار تھے۔ ان کی تازہ تصنیف کی اشاعت پر میں تہ دل سے انھیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ (پروفیسر فتح محمد ملک)
















