KHAYAL SARAYE , خیال سرائے
(NOTE: The Book cover may vary if published by different companies.)
Author: AAMIR KHAKWANI
Categories: Character Building , Urdu
Pages: 304
Publisher: Book Corner
Cover: Softcover
Book description :
مدّلل، متوازن اور متین ... یہ تین میم الفاظ عامر ہاشم خاکوانی صاحب کی تحریروں کی درست عکّاسی کرتے ہیں۔ ایک تہذیبی شائستگی اور ہم دردی کی مہک رچی بسی ہے ان کی صندلیں تحریروں میں۔ سو اِن حکیمانہ تحریروں کا خاصا ان میں نکتہ خیز حکایات و واقعات، دل چسپ انداز اور شستہ، رواں نثر ہے۔ ان میں ہر تحریر اپنے اندر ایک مکمل مضمون کا سامان رکھتی ہے۔ عامر ہاشم خاکوانی صحافیوں اور دانش وروں کی اُس معدوم ہوتی نسل کے چند آخری قیمتی لوگوں میں سے ہیں علم و فن، عجز و انکسار، عالمانہ بصیرت اور متانت جن کے جواہرِ خاص، وسعتِ ظرف جن کی فطرت اور تفکر و تدبر جن کا شیوہ ہے۔
عرفان جاوید
اگر قابلِ مطالعہ ہونے کے لیے صاحبِ مطالعہ ہونا اوّلین شرط ہے تو عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے اس شرط کا پاس ایمان کے درجے میں کیا ہے۔ کتابوں سے اس قدر ٹوٹ کر اور بےلوث محبت کرنے والا شخص میں نے اور نہیں دیکھا۔ بے لوث اس لیے کہ وہ کتابوں کا مطالعہ اس لیے نہیں کرتے کہ انھیں کالم لکھنے کے لیے مواد چاہیے، بلکہ وہ چیزوں کی گہرائی، حالات و واقعات کے محرکات، تاریخ، فنونِ لطیفہ اور فکشن کے متعلق زیادہ سے زیادہ جاننے کی اَن مٹ پیاس رکھتے ہیں۔ پھر جب وہ اس علم کو اپنی شستہ نثر سے آراستہ کر کے قاری کے لیے پیش کرتے ہیں تو ہر پڑھنے والے کو لگتا ہے گویا یہ تو خاص اسی کے لیے لکھا گیا ہے۔ کبھی سیاست تو کبھی کھیل۔ کہیں اصلاحِ ذات کے طریق ہائے کی معلومات تو کہیں ناول اور فلم کی بات۔ موضوعات کے تنوع اور ان پر معروضی رائے نے بلاشبہ ایک عالم کو خاکوانی صاحب کا گرویدہ کر رکھا ہے۔
Product Information
Product Information
Shipping & Returns
Shipping & Returns


KHAYAL SARAYE , خیال سرائے
KHAYAL SARAYE , خیال سرائے
(NOTE: The Book cover may vary if published by different companies.)
Author: AAMIR KHAKWANI
Categories: Character Building , Urdu
Pages: 304
Publisher: Book Corner
Cover: Softcover
Book description :
مدّلل، متوازن اور متین ... یہ تین میم الفاظ عامر ہاشم خاکوانی صاحب کی تحریروں کی درست عکّاسی کرتے ہیں۔ ایک تہذیبی شائستگی اور ہم دردی کی مہک رچی بسی ہے ان کی صندلیں تحریروں میں۔ سو اِن حکیمانہ تحریروں کا خاصا ان میں نکتہ خیز حکایات و واقعات، دل چسپ انداز اور شستہ، رواں نثر ہے۔ ان میں ہر تحریر اپنے اندر ایک مکمل مضمون کا سامان رکھتی ہے۔ عامر ہاشم خاکوانی صحافیوں اور دانش وروں کی اُس معدوم ہوتی نسل کے چند آخری قیمتی لوگوں میں سے ہیں علم و فن، عجز و انکسار، عالمانہ بصیرت اور متانت جن کے جواہرِ خاص، وسعتِ ظرف جن کی فطرت اور تفکر و تدبر جن کا شیوہ ہے۔
عرفان جاوید
اگر قابلِ مطالعہ ہونے کے لیے صاحبِ مطالعہ ہونا اوّلین شرط ہے تو عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے اس شرط کا پاس ایمان کے درجے میں کیا ہے۔ کتابوں سے اس قدر ٹوٹ کر اور بےلوث محبت کرنے والا شخص میں نے اور نہیں دیکھا۔ بے لوث اس لیے کہ وہ کتابوں کا مطالعہ اس لیے نہیں کرتے کہ انھیں کالم لکھنے کے لیے مواد چاہیے، بلکہ وہ چیزوں کی گہرائی، حالات و واقعات کے محرکات، تاریخ، فنونِ لطیفہ اور فکشن کے متعلق زیادہ سے زیادہ جاننے کی اَن مٹ پیاس رکھتے ہیں۔ پھر جب وہ اس علم کو اپنی شستہ نثر سے آراستہ کر کے قاری کے لیے پیش کرتے ہیں تو ہر پڑھنے والے کو لگتا ہے گویا یہ تو خاص اسی کے لیے لکھا گیا ہے۔ کبھی سیاست تو کبھی کھیل۔ کہیں اصلاحِ ذات کے طریق ہائے کی معلومات تو کہیں ناول اور فلم کی بات۔ موضوعات کے تنوع اور ان پر معروضی رائے نے بلاشبہ ایک عالم کو خاکوانی صاحب کا گرویدہ کر رکھا ہے۔
Original: $4.03
-70%$4.03
$1.21Product Information
Product Information
Shipping & Returns
Shipping & Returns
Description
(NOTE: The Book cover may vary if published by different companies.)
Author: AAMIR KHAKWANI
Categories: Character Building , Urdu
Pages: 304
Publisher: Book Corner
Cover: Softcover
Book description :
مدّلل، متوازن اور متین ... یہ تین میم الفاظ عامر ہاشم خاکوانی صاحب کی تحریروں کی درست عکّاسی کرتے ہیں۔ ایک تہذیبی شائستگی اور ہم دردی کی مہک رچی بسی ہے ان کی صندلیں تحریروں میں۔ سو اِن حکیمانہ تحریروں کا خاصا ان میں نکتہ خیز حکایات و واقعات، دل چسپ انداز اور شستہ، رواں نثر ہے۔ ان میں ہر تحریر اپنے اندر ایک مکمل مضمون کا سامان رکھتی ہے۔ عامر ہاشم خاکوانی صحافیوں اور دانش وروں کی اُس معدوم ہوتی نسل کے چند آخری قیمتی لوگوں میں سے ہیں علم و فن، عجز و انکسار، عالمانہ بصیرت اور متانت جن کے جواہرِ خاص، وسعتِ ظرف جن کی فطرت اور تفکر و تدبر جن کا شیوہ ہے۔
عرفان جاوید
اگر قابلِ مطالعہ ہونے کے لیے صاحبِ مطالعہ ہونا اوّلین شرط ہے تو عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے اس شرط کا پاس ایمان کے درجے میں کیا ہے۔ کتابوں سے اس قدر ٹوٹ کر اور بےلوث محبت کرنے والا شخص میں نے اور نہیں دیکھا۔ بے لوث اس لیے کہ وہ کتابوں کا مطالعہ اس لیے نہیں کرتے کہ انھیں کالم لکھنے کے لیے مواد چاہیے، بلکہ وہ چیزوں کی گہرائی، حالات و واقعات کے محرکات، تاریخ، فنونِ لطیفہ اور فکشن کے متعلق زیادہ سے زیادہ جاننے کی اَن مٹ پیاس رکھتے ہیں۔ پھر جب وہ اس علم کو اپنی شستہ نثر سے آراستہ کر کے قاری کے لیے پیش کرتے ہیں تو ہر پڑھنے والے کو لگتا ہے گویا یہ تو خاص اسی کے لیے لکھا گیا ہے۔ کبھی سیاست تو کبھی کھیل۔ کہیں اصلاحِ ذات کے طریق ہائے کی معلومات تو کہیں ناول اور فلم کی بات۔ موضوعات کے تنوع اور ان پر معروضی رائے نے بلاشبہ ایک عالم کو خاکوانی صاحب کا گرویدہ کر رکھا ہے۔




