🚚 Free Worldwide Shipping on All Orders!Shop Now
GAMBLER | گیمبلر
Author: Fyodor Dostoevsky
Categories: Fiction Urdu-books
Pages: 240
Publisher: Book Corner
Binding: Hardback
About The Book :
فیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821 کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ سات بہن بھائیوں میں سے ایک تھے۔ ان کی بچپن کی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی کہانیاں اور گھریلو ملازمہ الیونا کی پریوں کی قصے شامل تھے، جنہیں خاندان کے بچے بہت پسند کرتے تھے۔ دیہات میں گزارے گئے وقت کا الگ ہی لطف تھا۔ انہوں نے بچپن سے ہی کہانیاں سننے اور پڑھنے کا شوق اپنایا۔ دستوئیفسکی مریضوں اور دیہاتی کسانوں کے دکھوں کو سن کر گہرے رنج میں مبتلا ہوتے تھے۔ وہ ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے، جن کے گھرانے کے حالات خوشحال نہیں تھے۔ انہوں نے سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی اسکول میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور فوج میں شامل ہوئے، مگر بعد میں اپنی تحریر اور تخلیق کو وقت دینے کے لیے فوج سے فارغ ہوئے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا، جس پر روسی نقاد بیلنسکی نے انہیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا لقب دیا۔ دستوئیفسکی انقلاب کی باتیں کرنے والے نوجوان حلقے سے جڑے، جس کی وجہ سے انہیں حکومت کی نظر میں خطرناک سمجھا گیا اور گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں سزائے موت سنائی گئی، لیکن پھندے سے پہلے ان کی سزا بدل دی گئی اور انہیں سائبیریا جیل بھیج دیا گیا۔ 1859 میں قید سے آزاد ہو کر وہ اپنی تخلیقی دنیا میں واپس آئے۔ اسی دوران انہیں مرگی کا مرض لاحق تھا۔ ان کے فن میں نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوئی، جو عالمی ادب میں منفرد ہے۔ ان کے ناولوں ’’جرم و سزا‘‘ اور ’’کرامازوف برادران‘‘ کو دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے، جن میں اردو ترجمہ شاہد حمید نے کیا۔ محمد حسن عسکری کے مطابق دستوئیفسکی کا مطالعہ ایک پیچیدہ تجربہ ہے، جو اپنی ذات کا سامنا کرنے والے ہی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ دستوئیفسکی 9 فروری 1881 کو سینٹ پیٹرز برگ میں وفات پا گئے اور ان کا جنازہ شاہانہ انداز میں ہوا، جو ان کی عظمت کی دلیل ہے۔ ان کے ادب نے دنیا کو دو دوروں میں تقسیم کیا: دستوئیفسکی سے پہلے اور بعد کا ادب۔ ظل حسنین نقوی، جنہیں ظ انصاری کے نام سے جانا جاتا ہے، 6 فروری 1925 کو سہارنپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دہلی میں صحافت کے شعبے میں کام شروع کیا اور بعد میں کمیونسٹ پارٹی کے اخبار کے مدیر کے حلقے میں شامل ہوئے۔ ابتدا میں وہ کمیونزم کے نظریات کے پیروکار تھے، مگر بعد میں ان کا رجحان بدل گیا۔ انہوں نے علمی اور ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصناف ادب میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی اور روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ ظ انصاری نے روسی ادب کا پہلا براہِ راست اردو ترجمہ کیا، جو اس سے قبل کسی اردو ادیب نے نہ کیا تھا۔ ان کے کام ماسکو میں بہت معتبر سمجھے گئے اور انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انہوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر تحقیقاتی کام کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور روسی سے مجموعی طور پر 38 کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا، جن میں مارکس، اینگلز، لینن کی منتخب تصانیف کے علاوہ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی شامل ہیں۔ دستوئیفسکی کی پیچیدہ تحریروں کا اردو میں ترجمہ کرنا ایک مشکل کام تھا، جو صرف ظ انصاری جیسے فن کار ہی انجام دے سکتے تھے۔ ان کے تراجم میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتابیں اصل میں اردو میں لکھی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں، انہوں نے دو جلدوں پر مشتمل اردو-روسی اور روسی-اردو لغت مرتب کی، جو 55 ہزار الفاظ پر مشتمل ہے، اور جدید روسی شاعری کا منظوم ترجمہ بھی کیا۔ ظ انصاری نے زبان و ادب کے میدان میں بے شمار خدمات انجام دی ہیں، جو انہیں ہمیشہ یادگار بنائے رکھیں گی۔
Product Information
Product Information
Shipping & Returns
Shipping & Returns


GAMBLER | گیمبلر
GAMBLER | گیمبلر
Author: Fyodor Dostoevsky
Categories: Fiction Urdu-books
Pages: 240
Publisher: Book Corner
Binding: Hardback
About The Book :
فیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821 کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ سات بہن بھائیوں میں سے ایک تھے۔ ان کی بچپن کی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی کہانیاں اور گھریلو ملازمہ الیونا کی پریوں کی قصے شامل تھے، جنہیں خاندان کے بچے بہت پسند کرتے تھے۔ دیہات میں گزارے گئے وقت کا الگ ہی لطف تھا۔ انہوں نے بچپن سے ہی کہانیاں سننے اور پڑھنے کا شوق اپنایا۔ دستوئیفسکی مریضوں اور دیہاتی کسانوں کے دکھوں کو سن کر گہرے رنج میں مبتلا ہوتے تھے۔ وہ ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے، جن کے گھرانے کے حالات خوشحال نہیں تھے۔ انہوں نے سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی اسکول میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور فوج میں شامل ہوئے، مگر بعد میں اپنی تحریر اور تخلیق کو وقت دینے کے لیے فوج سے فارغ ہوئے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا، جس پر روسی نقاد بیلنسکی نے انہیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا لقب دیا۔ دستوئیفسکی انقلاب کی باتیں کرنے والے نوجوان حلقے سے جڑے، جس کی وجہ سے انہیں حکومت کی نظر میں خطرناک سمجھا گیا اور گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں سزائے موت سنائی گئی، لیکن پھندے سے پہلے ان کی سزا بدل دی گئی اور انہیں سائبیریا جیل بھیج دیا گیا۔ 1859 میں قید سے آزاد ہو کر وہ اپنی تخلیقی دنیا میں واپس آئے۔ اسی دوران انہیں مرگی کا مرض لاحق تھا۔ ان کے فن میں نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوئی، جو عالمی ادب میں منفرد ہے۔ ان کے ناولوں ’’جرم و سزا‘‘ اور ’’کرامازوف برادران‘‘ کو دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے، جن میں اردو ترجمہ شاہد حمید نے کیا۔ محمد حسن عسکری کے مطابق دستوئیفسکی کا مطالعہ ایک پیچیدہ تجربہ ہے، جو اپنی ذات کا سامنا کرنے والے ہی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ دستوئیفسکی 9 فروری 1881 کو سینٹ پیٹرز برگ میں وفات پا گئے اور ان کا جنازہ شاہانہ انداز میں ہوا، جو ان کی عظمت کی دلیل ہے۔ ان کے ادب نے دنیا کو دو دوروں میں تقسیم کیا: دستوئیفسکی سے پہلے اور بعد کا ادب۔ ظل حسنین نقوی، جنہیں ظ انصاری کے نام سے جانا جاتا ہے، 6 فروری 1925 کو سہارنپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دہلی میں صحافت کے شعبے میں کام شروع کیا اور بعد میں کمیونسٹ پارٹی کے اخبار کے مدیر کے حلقے میں شامل ہوئے۔ ابتدا میں وہ کمیونزم کے نظریات کے پیروکار تھے، مگر بعد میں ان کا رجحان بدل گیا۔ انہوں نے علمی اور ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصناف ادب میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی اور روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ ظ انصاری نے روسی ادب کا پہلا براہِ راست اردو ترجمہ کیا، جو اس سے قبل کسی اردو ادیب نے نہ کیا تھا۔ ان کے کام ماسکو میں بہت معتبر سمجھے گئے اور انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انہوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر تحقیقاتی کام کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور روسی سے مجموعی طور پر 38 کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا، جن میں مارکس، اینگلز، لینن کی منتخب تصانیف کے علاوہ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی شامل ہیں۔ دستوئیفسکی کی پیچیدہ تحریروں کا اردو میں ترجمہ کرنا ایک مشکل کام تھا، جو صرف ظ انصاری جیسے فن کار ہی انجام دے سکتے تھے۔ ان کے تراجم میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتابیں اصل میں اردو میں لکھی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں، انہوں نے دو جلدوں پر مشتمل اردو-روسی اور روسی-اردو لغت مرتب کی، جو 55 ہزار الفاظ پر مشتمل ہے، اور جدید روسی شاعری کا منظوم ترجمہ بھی کیا۔ ظ انصاری نے زبان و ادب کے میدان میں بے شمار خدمات انجام دی ہیں، جو انہیں ہمیشہ یادگار بنائے رکھیں گی۔
$3.23
GAMBLER | گیمبلر—
$3.23
Product Information
Product Information
Shipping & Returns
Shipping & Returns
















